جان کا دشمن
قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )
معنی
١ - ایسا دشمن جو قتل کرنے کے در پے رہے، سخت دشمن۔ "وہ بھائی کی جان کا دشمن ہو گیا۔" ( ١٩٣٤ء، قرآنی قصے، ١٢ )
اشتقاق
فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'جان' کے ساتھ 'کا' بطور حرف اضافت لگانے کے بعد فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'دشمن' ملانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور صفت مستعمل ہے۔ ١٩٣٤ء میں "قرآنی قصے" میں مستعمل ملتا ہے۔
مثالیں
١ - ایسا دشمن جو قتل کرنے کے در پے رہے، سخت دشمن۔ "وہ بھائی کی جان کا دشمن ہو گیا۔" ( ١٩٣٤ء، قرآنی قصے، ١٢ )